اولیاءکرام کاتقٰوی

تقویٰ کی اقسام:تقویٰ کے معنیٰ سے یہ واضح ہوا کہ شرک، بدعت اور کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے بچنا تقویٰ کے بڑے بنیادی درجے ہیں کہ کفر و شرک ہمیشہ کےلئے جہنم میں داخلے کا سبب ہیں اور اس سے بڑھ کر ہلاکت وضرر (نقصان)کیا ہوگا، یونہی کبیرہ گناہ جہنم میں داخلے کاسبب ہیں اور صغیرہ گناہوں میں بھی آخرت کا نقصان ہے لہٰذا اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اِن تین چیزوں سے بچنا حصولِ تقویٰ کےلئے ضروری ہے لیکن اس کے علاوہ مشكوك و مشتبہ چیز ترک کردینا بھی تقویٰ کا اہم درجہ ہے جیسا کہ حدیث میں فرمایا: اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو شک و شبہ سے خالی ہے۔ (ترمذی، 4/232حدیث:2526) نیز فرمایا: جس نے شک و شبہ والی چیزوں سے خود کو بچالیا اس نے اپنے دین و عزت کو بچالیا۔ ( بخاری، 1/33، حدیث:52) ان تمام درجاتِ تقویٰ کے بعد ایک اور اعلیٰ درجہ ہے اور وہ یہ کہ حلال میں بھی صرف ضرورت کی حد تک استعمال کرے اور ضرورت سے زائد حلال چھوڑدے۔ یہ بھی تقویٰ ہے کیونکہ ضرورت سے زائد حلال میں مشغول و منہمک ہونا بندے کو حرام کی جانب لے جاتا اور گناہوں پر اُبھارتا ہے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ’’بندہ اس وقت تک متقین کے مرتبے تک نہیں پہنچتا جب تک یہ نہ ہو کہ ناجائز میں پڑنے کے خوف سے جائز کو بھی چھوڑ دے۔‘‘ (ترمذی، 4/205، حدیث:2459) یعنی حرام میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے زائد ازضرورت حلال کو بھی چھوڑ دے۔
