masjid ko shaheed kar k neech dokane banana
مجیب مفتی غلام یاسین طیبی اشرفی
سوال
بسم الله الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ ایک جگہ مسجد جو کہ عرصہ قریبا 60 سال سے قائم ہے ۔
با قاعدگی کے ساتھ جمعہ اور پانچ وقت نماز میں باجماعت ہورہی ہیں ۔ مگر محمد اسلم ولد احمد یار نامی شخص نے بغیر کسی سے مشاورت کئے زبردستی مسجد کو گرانا شروع کر دیا ۔ اور تقریبا 20 لاکھ روپے کا نقصان ہو گیا ۔ اس کی اپنی مرضی اور خواہش ہے کہ مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ مارکیٹ بنادی جائے اور مسجد کو مارکیٹ کے اوپر شفٹ کر دیں گے ۔ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ پر مارکیٹ بنائی جاسکتی ہےیا نہیں ۔
نیز مسجد کو نقصان پہنچانے والے کے بارے میں کیا حکم ہے اور جو نقصان ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟
سائل:قاری امداد حسین قادری
پتہ:جامعہ فاروقیہ، از ا گیمر ، اوکاڑہ کینٹ ضلع ساہیوال
بسم الله الرحمن الرحيم الجواب فنقول وباللہ التوفیق،مسجدکابلند کرنا واقعی تعظیم مسجد ہےمگر مسجدمیں دکانیں بنانا، کرایہ پردنیا مسجد کی بے حرمتی واہانت ہےجو شر عاحرام اور سخت حرام ہے۔ افسوس بعض اہل اسلام کے حوصلے اتنے پست ہو گئے کہ خانہ خدا کے اجزاء کرایہ پر دینے کو تیار ہو گئے یہ ہرگز ہرگز جائز نہیں، قرآن کریم کا ارشاد ہے ان المساجد لله مسجدیں خاص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں
فتاوٰی امام قاضی خا ن ص713، جلد4 ، بحرالرائق ص 249 جلد5 ، فتح القدیرص446 جلد5 ، فتاوی عالمگیری ص349 جلد 2میں ہے و النظم من الهندية قيم المسجد لا يجوز له ان يبنى حوانيت في حد المسجد او فى فنائه لان المسجد اذا جعل حانوتا ومسكنا تسقط حرمته و هذا لا يجوز یعنی متولی مسجد کے لئے جائز نہیں کہ مسجد کی حدمیں یا صحن میں د کانیں بنائے اس لئے کہ مسجد جب دکان یا مسکن بنائی جائے تو یہ اس کی بے حرمتی ہے جو جائز نہیں ،
بحرالرائق ص25ج5، فتاوی قاضی خان 713، جلد 4، در المختار ص513جلد 3 مطبوع مع ردالمحتار میں ہے والنظم من البحر لا يجوز للقيم ان يجعل شيئا من المسجد مستغلا ولا مسكنا یعنی نہیں جائز متولی کے لئے کہ بنائے مسجد کے کسی حصہ کو نفع کمانے یا لینے کی جگہ ” رد المحتارص513ج3 میں ہے و المراد من المستغل أن يوجر منه شئی لاجل عمارته یعنی اور مستغل سے مراد یہ ہے کہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ پر دیا جائے کہ اس پر خرچ کیا جائے ۔ فتاوی عالمگیری ص347ج2 میں ہے :اذا اراد انسان ان يتخذ المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له یعنی جب کوئی شخص ارادہ کرے کہ مسجد کے نیچے دکانیں بنائے یااوپر کہ ان کی آمدن مسجد کی مرمت پر خرچ کرے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں۔پس ان عبارات سے امس و شمس کی طرح واضح ہوا کہ ایسا کر نا شرعا نا جائز اور سخت نا جائز ہے اور اس میں مسجد کی بے حرمتی ہے۔ اور مسجد کا بلند کرنا صرف اس پر موقوف نہیں کہ دو کانیں بنائی جائیں کیا دنیا بھر جس مسجد میں دکانیں نہیں بنائی گئیں وہ بلندہی نہیں سخت نافہمی کی بات ہے لہذا اس سے پر ہیز لازم ونہایت ضروری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
استکتبہ خادم العلم والعلماءحافظ غلام یاسین، معین المفتی مولاناغلام دستگیراکبری
مفتی دارالعلوم جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اوکاڑہ تاریخ:13جمادی الاولی1446ھ بمطابق16نومبر2024ء
کتبہ:معین المفتی علامہ حامدسبحانی اوکاڑوی مرکزی دارالافتاء جامعہ حنفیہ دارالعلوم اشرف المدارس اوکاڑہ
