مجیب:ابومحمد محمد فراز عطاری مدنی
مصدق:مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری
فتوی نمبر: Gul-3174
تاریخ اجراء: 11 ذوالقعدۃ الحرام 1445 ھ/ 20 مئی 2024 ء
دارالافتاء اہلسنت
(دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں کتنی دیرتک بیٹھنا ضروری ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس اتنا کافی ہے کہ پیٹھ سیدھی ہوجائے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کم ازکم اتنی مقدار ٹھہرنا بھی ضروری ہے کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ کہہ لیا جائے ۔ دونوں میں سے کس کی بات پر عمل کرنا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
سوال کا جواب جاننے کے لیے تین چیزیں سامنے رکھنا ضروری ہے:
- ایک ہےرکوع اور سجدے سے سراٹھانا۔
- دوسری چیز ہے رکوع اور سجدے سےسراٹھا کر سیدھا کھڑا ہونا یا سیدھا بیٹھنا جسے قومہ اورجلسہ کہتے ہیں۔
- تیسری چیز ہے قومہ اورجلسہ میں اتنی دیرٹھہرنا کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار گزر جائے۔اسے تعدیل ارکان کہتے ہیں۔
پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ رکوع سے سراٹھانا واجب ہے،جبکہ سجدے سے سراٹھانا فرض ہے۔دوسری اور تیسری صورت کا حکم یہ ہے کہ یہ سب چیزیں واجب ہیں،یعنی قومہ اورجلسہ بھی واجب ہے اور تعدیل ارکان یعنی قومہ وجلسہ اوردیگر ارکان میں اتنی دیرٹھہرنا بھی واجب ہے کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار گزرجائے۔ان تمام احکام کی بنیاد بخاری شریف کی درج ذیل حدیث پاک ہے۔
بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:” عن أبی هريرة رضی اللہ عنه: أن رجلا دخل المسجدفصلی ، ورسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم فی ناحية المسجد، فجاء فسلم عليه، فقال له:” ارجع فصل فإنك لم تصل “فرجع فصلى ثم سلم، فقال:’’وعليك ، ارجع فصل، فإنك لم تصل“قال فی الثالثۃ :فأعلمنی ،قال:إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء، ثم استقبل القبلة فكبر، واقرأ بما تيسر معك من القرآن، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع رأسک حتى تعتدل قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تستوی وتطمئن جالسا، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تستوی قائما ، ثم افعل ذلك فی صلاتك كلها “ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی ایک جانب تشریف فرما تھے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم دوبارہ جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی،وہ دوبارہ آیا اور نماز پڑھی ،پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تم پر بھی سلام ہو،دوبارہ جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس شخص نے تیسری مرتبہ عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سکھا دیجئے (کہ میں کیسے نماز پڑھوں؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرے، تو اچھے طریقے سے وضو کر،پھر قبلہ کی طرف منہ کرکے تکبیرکہہ،اس کے بعد جو قرآن تمہیں آسان ہو وہ پڑھو،پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان ہوجائے ،پھر سراٹھاؤ یہاں تک کہ اعتدال کی حالت میں سیدھے کھڑے ہوجاؤ،پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان ہوجائے ،پھر سجدے سے سراٹھاؤ یہاں تک پیٹھ سیدھی ہوجائے اوراطمینان سے بیٹھ جاؤ،پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان حاصل ہوجائے ،پھر سراٹھا کر سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور پوری نماز میں اسی طرح کرو۔ (بخاری شریف، جلد8،صفحہ135،مطبوعہ دار طوق النجاہ)
رکوع سے سراٹھانا واجب ہے۔بدائع الصنائع میں ہے:”أما المفروض فقد ذكرناه وهو الانتقال من الركوع الى السجود لما بينا أنه وسيلة الى الركن، فأما رفع الرأس وعوده الى القيام فهو تعديل الانتقال وانه ليس بفرض عند أبی حنيفة ومحمد بل هو واجب“ ترجمہ: رکوع کے بعد فرض وہ چیز ہے جو ہم نے بیان کردی کہ رکوع سے سجدے کی طرف منتقل ہونا فرض ہے، کیونکہ یہ انتقال ہی اگلے رکن تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ۔ جہاں تک رکوع سے سراٹھانے اور قیام کی طرف واپس آنے کا معاملہ ہے ،تو یہ تعدیل انتقال ہے اور یہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد رحمھما اللہ کے نزدیک فرض نہیں ، بلکہ واجب ہے۔ (بدائع الصنائع ،جلد1،صفحہ 209،مطبوعہ بیروت)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:” قوله: ”والرفع من الركوع“ عطف على الاطمئنان فهو واجب قال فی الشرح ومقتضى الدليل وجوب الطمأنينة فی الأربعة ووجوب نفس الرفع من الركوع والجلوس بين السجدتين الخ“ ترجمہ: ”رکوع سے سراٹھانا“ اس کا عطف اطمینان پر ہے اور یہ واجب ہے ،شرح میں فرمایا کہ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ چاروں(رکوع،سجدہ،قومہ،جلسہ) میں اطمینان بھی واجب ہے اور رکوع سے سراٹھانا بھی واجب ہے اور دوسجدوں کے درمیان بیٹھنا بھی واجب ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 250،مطبوعہ کوئٹہ)
سجدے سے سراٹھانا فرض ہے۔جدالممتار میں فرمایا:”أما نفس الرفع من السجدۃ ففرض علی ما صححہ فی الھدایۃ کما سیأتی (مزید کچھ عبارتیں نقل کرنے کے بعد فرمایا) فینبغی أن لا یفترض الا نفس الرفع اذ تکرار السجدۃ فرض ولا یحصل الا بہ بخلاف الجلوس فلا یکون الا واجبا للمواظبۃ کما ذکر ھنا “ ترجمہ:سجدے سے سراٹھانا فرض ہے ، ہدایہ میں اسی کو صحیح قراردیا ہے ،جیسا کہ آئندہ بھی عنقریب آئے گا۔(کچھ عبارتیں نقل کرنے کے بعد) فرض صرف سراٹھانا ،ہونا چاہیے کیونکہ دوسری مرتبہ کا سجدہ بھی فرض ہے اور دوسری مرتبہ کا سجدہ تب ہی حاصل ہوگا جب پہلے سجدے سے سراٹھایا جائے۔برخلاف جلسے کے ،یہ واجب ہی ہوگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پر مواظبت ہے جیسا کہ یہاں ذکرکیا گیا ۔ (جدالممتار،جلد3،صفحہ 157،158، مکتبۃ المدینہ کراچی)
بدائع الصنائع میں ہے:”والرفع فرض، لأن السجدة الثانية فرض فلا بد من الرفع للانتقال اليها “ ترجمہ: سجدے سےسراٹھانا فرض ہے ،کیونکہ دوسرا سجدہ فرض ہے اور اس فرض کو ادا کرنے کے لیے پہلے سجدے سے سراٹھانا بھی فرض ہوا تاکہ دوسرے سجدے کی طرف منتقل ہوا جاسکے۔(بدائع الصنائع، جلد1،صفحہ210،مطبوعہ بیروت)
قومہ وجلسہ بھی واجب اور ان میں تعدیل بھی واجب ہے۔ردالمحتار میں ہے:”يجب التعديل أيضا فی القومة من الركوع والجلسة بين السجدتين، وتضمن كلامه وجوب نفس القومة والجلسة أيضا لأنه يلزم من وجوب التعديل فيهما وجوبهما “ ترجمہ:رکوع سے کھڑے ہونے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں بھی تعدیل واجب ہے ،یہ کلام اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ نفس قومہ (رکوع سے سراٹھا کرکھڑا ہونا)اورنفس جلسہ (سجدے سے سراٹھا کربیٹھنا)بھی واجب ہی ہے،کیونکہ ان دونوں میں تعدیل واجب ہونے سے ان کا واجب ہونا بھی لازم آتا ہے ۔(ردالمحتار مع الدرالمختار،جلد2،صفحہ193،مطبوعہ کوئٹہ)
مراقی الفلاح میں ہے:”مقتضی الدلیل وجوب الاطمئنان أيضا فی القومة والجلسة والرفع من الركوع للأمر به فی حديث المسی صلاته وللمواظبة على ذلك كله. واليه ذهب المحقق الكمال بن الهمام وتلميذه ابن أميرحاج وقال انه الصواب “ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ قومہ اورجلسہ میں بھی اطمینان واجب ہو اور رکوع سے اٹھنا بھی واجب ہوکہ ناقص نماز پڑھنے والے کو حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے،نیز ان سب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مواظبت بھی ہے ،اسی قول کی طرف محقق کمال بن ھمام رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد ابن امیرحاج رحمہ اللہ گئے ہیں،یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ درست قول یہی ہے۔(مراقی الفلاح متن حاشیۃ الطحطاوی، صفحہ 249،مطبوعہ کوئٹہ)
اطمینان کی مقدار کے بارے میں مجمع الانہر میں ہے:”تسكين الجوارح فی الركوع والسجود حتى تطمئن مفاصلها واجب عند الطرفين وأدناه مقدار تسبيحة“ترجمہ:رکوع اورسجدے میں اعضاء کا ساکن ہوجانا ،یہاں تک کہ تمام جوڑ اطمینان کی حالت میں آ جائیں ،یہ طرفین کے نزدیک واجب ہے اور اس کی ادنیٰ مقدار ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنا ہے۔(مجمع الانھر ،جلد1،صفحہ 132،مطبوعہ کوئٹہ)
بہارشریعت میں نماز کے واجبات میں ہے:” (۱۹) تعدیل ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر ٹھہرنا یوہیں (۲۰) قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا۔ (۲۱) جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا۔ “(بھارشریعت ،جلد1،حصہ3،صفحہ518، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
دو سجدوں کے درمیان کتنی دیر بیٹھنا ضروری ہے؟
مجیب:مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر:Grw-714
تاریخ اجراء:24ربیع الاول1445ھ/11اکتوبر 2023ء
دارالافتاء اہلسنت
(دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جن رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے، اگر ان میں سورت ملانا بھول گئے اور رکوع میں چلے گئے، تو یاد آنے پر واپس لوٹنے کا حکم ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ
(1)یہ واپس لوٹنا کس درجے کا حکم ہے ؟ اگر یاد آنے کے باوجود واپس نہیں لوٹتے، تو کیا سجدہ سہو کافی ہو جائے گا؟
(2) رکوع فرض اور سورت ملانا واجب ہے ، تو یہاں فرض سے واجب کی طرف لوٹنے کا کیوں حکم ہے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
(1)جن رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے، ان میں سورت ملانا بھول گئے اور رکوع میں چلے گئے، تو اب حکمِ شرعی یہ ہے کہ نمازی کو اس رکعت کے سجدے میں جانے سے پہلے رکوع یا قومہ میں یاد آجائے،تو فوراً قیام کی طرف لوٹے، سورت ملائے اور دوبارہ رکوع کرے ، پھر آخر میں سجدہ سہو بھی کرے ۔ اور یہ قیام کی طرف لوٹنا واجب ہے ۔ اگر یا دآنے کے باوجود قیام میں نہ لوٹے تو جان بوجھ کر ترکِ واجب ہو گا ،جس سے نماز واجب الاعادہ ہو گی ، سجدہ سہو اس صورت میں کفایت نہیں کرے گا۔
نیز یہ بھی یاد رہے کہ جب قیام میں واپس لوٹیں گے تو رکوع دوبارہ کرنا ہو گا ، اگر رکوع دوبارہ نہ کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
بدائع الصنائع میں ہے:’’لوتذکر فی الرکوع او بعد ما رفع رأسہ منہ أنہ ترک الفاتحۃ أو السورۃ یعود وینتقض رکوعہ‘‘ترجمہ: اگر نمازی کو رکوع میں یا رکوع سے اٹھنے کے بعد یاد آیا کہ اس نے فاتحہ یا سورت چھوڑدی ہے،تو حکم یہ ہے کہ وہ لوٹ آئے اور اس کا وہ رکوع ختم ہوجائے گا۔(بدائع الصنائع،کتاب الصلوٰۃ،فصل فی القنوت، ج02 ،ص234، دارالحدیث قاھرہ، بیروت)
اس صورت میں سجدہ سہو کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے:’’لو قرأ الفاتحۃ و آیتین فخر راکعاً ساھیاً ثم تذکر عاد و اتم ثلاث آیات و علیہ سجود السھو‘‘ترجمہ: نمازی اگر سورۃ الفاتحہ کے بعد دو(چھوٹی) آیات پڑھ کر بھولے سے رکوع میں چلا جائے ،پھر اسے یاد آئے تو واپس لوٹے اور تین آیات مکمل کرے اور اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری،کتاب الصلاۃ، ج01، ص126،مطبوعہ پشاور)
قیام میں لوٹنے کے بعداگر رکوع دوبارہ نہ کیا ،تو نماز فاسد ہو جائے گی ،جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے:’’(لو تذكرها)أي السورة(فی رکوعہ قرأها)أي بعد عوده إلى القيام(وأعاد الركوع)لأن ما يقع من القراءة في الصلاة يكون فرضاً فيرتفض الركوع ويلزمه إعادته لأن الترتيب بين القراءة والركوع فرض كما مر بيانه في الواجبات، حتى لو لم يعده تفسد صلاته“ترجمہ: نمازی کو اگر رکوع میں یاد آیا کہ وہ سورت ملانا بھول گیا ہے،تو اب وہ رکوع سے قیام کی طرف لوٹ کر قراءت کرے اور دوبارہ رکوع کرے، کیونکہ نماز میں جو قراءت واقع ہوتی ہے، وہ فرض ہے، لہٰذا وہ پہلا رکوع باطل ہوگیا اور اس کا اعادہ کرنا نمازی پر لازم ہوگا، کیونکہ قراءت اور رکوع کے مابین ترتیب فرض ہے،جیسا کہ نماز کے واجبات میں اس کا بیان گزرا، یہاں تک کہ اگر نمازی نے دوبارہ رکوع نہ کیا، تو اس کی نماز ہی فاسد ہوگی۔(رد المحتار مع الدر المختار،کتاب الصلاۃ، ج02، ص311، مطبوعہ کوئٹہ، ملخصاً)
بہارشریعت میں ہے :’’سورت ملانا بھول گیا ،رکوع میں یاد آیا ،تو کھڑا ہو جائے اورسورت ملائے پھر رکوع کرے اوراخیر میں سجدہ سہو کرے اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا ،تو نماز نہ ہوگی ۔‘‘ (بھارشریعت ، ج01،ح04،ص 545،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نمازی اگر قراءت بھول کررکوع میں چلا جائے تو سجدے سے پہلے یاد آجانے کی صورت میں لوٹنا واجب ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’اگر سجدے میں جانے تک بھولی ہوئی آیات یاد نہ آئیں، تو اب سجدہ سہو کافی ہے اور اگر سجدہ کو جانے سے پہلے رکوع میں خواہ قومہ بعد الرکوع میں یاد آجائیں، تو واجب ہے کہ قراءت پوری کرے اور رکوع کا پھر اعادہ کرے اگر قراءت پوری نہ کی تو اب پھر قصداً ترک واجب ہوگا اور نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا اوراگر قراءت بعدالرکوع پوری کر لی اور رکوع دوبارہ نہ کیا،تو نماز ہی جاتی رہی کہ فرض ترک ہوا۔“(فتاویٰ رضویہ ،ج 06، ص 330،رضا فاؤنڈیشن،لاھور، ملخصاً)
مزید ایک دوسرے مقام پر امام اہل سنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہواکہ’’نمازی کسی رکعت میں صرف الحمد پڑھے اور سہواً سورت نہ ملائے اور پھر سہو کا سجدہ کرے ،تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ ‘‘آپ نے جواباً ارشاد فرمایا:’’جو سورت ملانا بھول گیا اگر اسے رکوع میں یاد آیا تو فوراً کھڑے ہوکر سورت پڑھے، پھر رکوع دوبارہ کرے ،پھر نماز تمام کرے اور اگر رکوع كے بعد سجدہ میں یاد آیا ،تو صرف اخیر میں سجدہ سہو کرلے نماز ہوجائے گی اورپھیرنی نہ ہوگی۔‘‘(فتاوی رضویہ، ج08،ص 196، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
(2) قرآن پاک کی تلاوت جب بھی کی جائے گی (خواہ نماز میں ہو یا بیرونِ نماز) وہ حکمِ قرآنی ﴿فَاقْرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾ترجمہ کنز الایمان:’’اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو۔‘‘کے تحت داخل ہو کر بطور فرض ہی ادا ہو گی ،کیونکہ یہ آیتِ مبارکہ مطلق ہے۔ لہذااگر کوئی نمازی سورۃ الفاتحہ کے بعد (جن رکعتوں میں سورت ملانا واجب ہے ان میں)سورت ملائے بغیر رکوع میں چلا جائے اور رکوع میں یاد آ جائے تو وہ قیام میں واپس لوٹے گا اور سورت ملائے گاکہ اگرچہ سورت ملانا واجب تھا، مگرپوری قراءت ہی فرض کے درجے میں ہے ،لہٰذا یہاں فرض سے واجب کی طرف نہیں ،بلکہ فرض سے فرض کی طرف ہی لوٹنا پایا گیا۔
امام اہل سنت، مجدد دین وملت،الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن جدالممتار میں فرماتے ہیں:’’أقول:۔۔۔ القرآن كلما قرئ لا يقع إلا فرضا لإطلاق ﴿فَاقْرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾(المزمل:20)، ولذا جاز العود من الركوع إلى قراءة السورة، فافهم‘‘ ترجمہ: میں کہتا ہوں:۔۔۔قرآن پاک جب بھی پڑھا جائے گا وہ فرض ہی ادا ہو گا کیونکہ سورہ مزمل کی آیت 20″اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو” مطلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رکوع سے سورت کی قراءت کی طرف لوٹنا جائز ہے ، پس اسے سمجھ لو۔ (جد الممتار، ج7، ص 267، مكتبة المدينة،كراتشي)
امامِ اہل سنت علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:’’اگر سُورت بھول کررکوع میں چلا جائے ،پھر رکوع میں یاد آئے، تو حکم ہے کہ رکوع کو چھوڑے اور کھڑاہوکر سُورت پڑھے اور پھر رکوع کرے، حالانکہ ضم سورت صرف واجب تھا اور واجب کے لیے رفض فرض جائز نہیں ،جیسے قعدہ اولیٰ بُھول کر جو سیدھا کھڑا ہوجائے اب اُسے عود حلال نہیں کہ قعدہ واجب تھا اور قیام فرض ہے، مگر سورت جو پڑھے گا یہ بھی فرض واقع ہوگی تو فرض کے لیے رفض فرض ہوا، ولہٰذا اگر کھڑا ہو کر سُورت پڑھے اور اس خیال سے کہ رکوع تو پہلے کر چکا ہُوں دوبارہ رکوع نہ کرے، نماز باطل ہوجائیگی کہ فرض کے لیے جو فرض چھوڑا گیا وُہ جاتارہا تھا، اس پر فرض تھا کہ رکوع دوبارہ کرتا۔“ (فتاوی رضویہ،ج10،ص598، رضا ؤنڈیشن،لاھور)
اس صورت میں جب نمازی رکوع سے قیام میں لوٹ کر قراءت مکمل کرے گا ،تو اسے دوبارہ رکوع کرنا ہو گا،یہ بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قراءت فرض ہی کے درجے میں ادا ہو رہی ہے ، لہٰذا پہلے کیا ہوا رکوع کالعدم ہو اکہ قراءت و رکوع میں ترتیب لازم ہے۔جیسا کہ پہلی شق میں موجود در مختار کے جزئیے میں ہے:’’ لأن ما يقع من القراءة في الصلاة يكون فرضاً فيرتفض الركوع ويلزمه إعادته لأن الترتيب بين القراءة والركوع فرض كما مر بيانه في الواجبات‘‘ترجمہ اوپر ہو چکا۔
